كِتَاب الزَّكَاةِ زکاۃ کے احکام و مسائل

حدثني ابو الطاهر ، اخبرنا عبد الله بن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن ، عن ابي سعيد الخدري . ح وحدثني حرملة بن يحيى ، واحمد بن عبد الرحمن الفهري ، قالا: اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن ، والضحاك الهمداني ، ان ابا سعيد الخدري ، قال: بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يقسم قسما، اتاه ذو الخويصرة وهو رجل من بني تميم، فقال: يا رسول الله اعدل، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ويلك ومن يعدل إن لم اعدل، قد خبت وخسرت إن لم اعدل "، فقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه: يا رسول الله ائذن لي فيه اضرب عنقه، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " دعه فإن له اصحابا يحقر احدكم صلاته مع صلاتهم، وصيامه مع صيامهم، يقرءون القرآن لا يجاوز تراقيهم، يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية، ينظر إلى نصله فلا يوجد فيه شيء، ثم ينظر إلى رصافه فلا يوجد فيه شيء، ثم ينظر إلى نضيه فلا يوجد فيه شيء وهو القدح، ثم ينظر إلى قذذه فلا يوجد فيه شيء سبق الفرث والدم آيتهم رجل اسود إحدى عضديه مثل ثدي المراة او مثل البضعة تتدردر، يخرجون على حين فرقة من الناس "، قال ابو سعيد: فاشهد اني سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم، واشهد ان علي بن ابي طالب رضي الله عنه قاتلهم وانا معه، فامر بذلك الرجل فالتمس فوجد، فاتي به حتى نظرت إليه على نعت رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي نعت.

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بانٹ رہے تھے کہ ذوالخویصرہ آیا ایک شخص بنی تمیم کا اور اس نے کہا کہ اے رسول اللہ کے! عدل کرو۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خرابی ہے تیری جب میں عدل نہ کروں گا تو کون کرے گا؟ اور تو بالکل بدنصیب اور محروم ہو گیا اگر میں نے عدل نہ کیا۔ اس پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے کہ اس کی گردن مار وں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانے دو اس لیے کہ اس کے چند یار ہوں گے کہ تم حقیر سمجھو گے اپنی نماز کو ان کی نماز کے آگے، اور اپنے روزے کو ان کے روزے کے آگے، قرآن پڑھیں گے کہ گلوں سے نہ اترے گا اسلام سے ایسے نکل جائیں گے کہ جیسے تیر شکار سے کہ دیکھتا ہے تیر انداز اس کے پیکان کو تو اس میں کچھ بھرا نہیں ہے، پھر دیکھتا ہے اس کی پیکان کی جڑ کو تو اس میں کچھ نہیں، پھر دیکھتا ہے اس کی لکڑی کو تو اس میں بھی کچھ نہیں، پھر دیکھتا ہے اس کے پر کو تو اس میں بھی کچھ نہیں اور تیر اس شکار کی بیٹ اور خون سے نکل گیا اور نشانی اس گروہ کی یہ ہے کہ ان میں ایک کالا آدمی ہے کہ ایک شانہ اس کا عورت کے پستان کا سا ہو گا یا فرمایا جیسے گوشت کا لوتھڑا تلتھلاتا ہوا اور وہ گروہ اس وقت نکلے گا جب لوگوں میں پھوٹ ہو گی۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے سنا ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان سے لڑے اور میں آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور آپ رضی اللہ عنہ نے حکم فرمایا اس کے ڈھونڈنے کا اور وہ ملا اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اور میں نے اس کو دیکھا کہ جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ویسا ہی تھا۔

صحيح مسلم # 2456
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp