وحدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا عبد الوهاب ، قال: سمعت يحيى بن سعيد ، يقول: اخبرني محمد بن إبراهيم ، عن ابي سلمة ، وعطاء بن يسار ، انهما اتيا ابا سعيد الخدري فسالاه عن الحرورية، هل سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكرها؟، قال: لا ادري من الحرورية، ولكني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " يخرج في هذه الامة ولم يقل منها قوم تحقرون صلاتكم مع صلاتهم، فيقرءون القرآن لا يجاوز حلوقهم او حناجرهم، يمرقون من الدين مروق السهم من الرمية، فينظر الرامي إلى سهمه إلى نصله إلى رصافه، فيتمارى في الفوقة هل علق بها من الدم شيء ".
ابوسلمہ اور عطاء دونوں، ابوسعید کے پاس آئے اور کہا کہ حروریہ کے باب میں تم نے کچھ سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا کچھ ذکر کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا کہ حروریہ کون لوگ ہیں مگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ فرماتے تھے: ”اس امت میں ایک قوم نکلے گی اور یہ نہیں فرمایا کہ اس امت سے ہو گی غرض وہ ایسے ہوں گے کہ حقیر جانو گے تم اپنی نماز کو ان کی نماز کے آگے اور قرآن پڑھیں گے کہ ان کے حلقوں سے یا فرمایا گلوں سے نیچے نہ اترے گا دین سے ایسے نکل جائیں گے۔ جیسے تیر شکار سے کہ شکاری دیکھتا ہے اپنے تیر کی لکڑی کو اور اس کی پھال کو اور اس کے پر کو اور غور کرتا ہے اس کے کنارہ اخیر کو جو اس کی چٹکیوں میں تھا کہ کہیں اس کی کسی چیز میں کچھ خون بھرا ہے۔“ (تو دیکھتا ہے کہ کہیں بھی نہیں بھرا)۔