كِتَاب الزَّكَاةِ زکاۃ کے احکام و مسائل

حدثنا محمد بن رمح بن المهاجر ، اخبرنا الليث ، عن يحيى بن سعيد ، عن ابي الزبير ، عن جابر بن عبد الله ، قال: اتى رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم بالجعرانة منصرفه من حنين، وفي ثوب بلال فضة، ورسول الله صلى الله عليه وسلم يقبض منها يعطي الناس، فقال: يا محمد اعدل، قال: " ويلك ومن يعدل إذا لم اكن اعدل لقد خبت وخسرت إن لم اكن اعدل، فقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه: دعني يا رسول الله فاقتل هذا المنافق، فقال: معاذ الله ان يتحدث الناس اني اقتل اصحابي، إن هذا واصحابه يقرءون القرآن، لا يجاوز حناجرهم، يمرقون منه كما يمرق السهم من الرمية "،

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے جب حنین سے لوٹے تھے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں کچھ چاندی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مٹھی سے لے لے کر بانٹتے تھے اور لوگوں کو دیتے تھے تو ایک شخص آیا اور اس نے کہا: عدل کرو اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون عدل کرے گا اگر میں عدل نہ کروں اور تو تو بڑا بدنصیب اور بڑا نقصان والا ہو گیا اگر میں عدل نہ کروں۔ (یعنی تو مجھے نبی سمجھ کر ایمان لایا اور جب میں ظالم ٹھہرا تو تیرا کہاں ٹھکانا لگے گا) اس پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ مجھے فرمائیے کہ میں اس منافق کو مار ڈالوں اللہ کے رسول۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی پناہ لوگ کہیں گے کہ میں اپنے رفیقوں کو مارتا ہوں۔ (معلوم ہوا کہ زبان خلق سے بچنا چاہیے) اور یہ شخص اور اس کے یار قرآن کو پڑھیں گے اور قرآن ان کے گلوں سے نہ اترے گا (یعنی دل میں اثر نہ کرے گا) اور قرآن سے نکل جائیں گے جیسے تیر نکل جاتا ہے شکار سے۔ (بعض وقت زور سے تیر مارو تو پار ہو جاتا ہے اور اس میں خون نہیں بھرتا)۔

صحيح مسلم # 2449
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp