حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا حفص بن غياث ، عن الاعمش ، عن شقيق ، عن عبد الله ، قال: قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم قسما، فقال رجل: إنها لقسمة ما اريد بها وجه الله، قال: فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فساررته، فغضب من ذلك غضبا شديدا واحمر وجهه، حتى تمنيت اني لم اذكره له، قال: ثم قال: " قد اوذي موسى باكثر من هذا فصبر ".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال بانٹا اور ایک شخص نے کہا کہ یہ تقسیم ایسی ہے کہ اللہ کی رضا مندی اس سے مقصود نہیں پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر چپکے سے کہہ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت غصہ ہوئے اور چہرہ آپ کا لال ہو گیا اور میں نے آرزو کی کہ کاش اس کا ذکر نہ کیا ہوتا تو خوب ہوتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام کو اس سے زیادہ ستایا اور انہوں نے صبر کیا (موسیٰ علیہ السلام پردہ میں چھپ کر نہاتے تھے جاہلوں نے کہا: ان کے انثیین بڑے ہیں ایک بار پتھر پر کپڑے رکھ دئیے وہ بھاگا۔ آپ اس کے پیچھے دوڑے لوگوں نے دیکھ لیا کہ کچھ عیب نہیں اور جب ہارون علیہ السلام کا انتقال ہوا ان کا جنازہ آسمان پر ملائکہ لے گئے۔ جاہلوں نے کہا: انہوں نے ان کو حسد سے مار ڈالا آخر وہ ایک تخت پر آسمان سے ظاہر ہوئے اور انہوں نے کہا کہ موسیٰ علیہ السلام نے مجھے نہیں مارا۔ غرض اس طرح ہمیشہ جاہل لوگ انبیاء، علماء کو بدنام کرتے چلے آئے ہیں خدام حدیث اور وارثان علم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ صبر کرتے رہے ہیں)۔