حدثنا سريج بن يونس ، حدثنا إسماعيل بن جعفر ، عن عمرو بن يحيى بن عمارة ، عن عباد بن تميم ، عن عبد الله بن زيد ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما فتح حنينا قسم الغنائم، فاعطى المؤلفة قلوبهم، فبلغه ان الانصار يحبون ان يصيبوا ما اصاب الناس، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فخطبهم، فحمد الله واثنى عليه، ثم قال: " يا معشر الانصار الم اجدكم ضلالا فهداكم الله بي، وعالة فاغناكم الله بي، ومتفرقين فجمعكم الله بي، ويقولون: الله ورسوله امن، فقال: الا تجيبوني "، فقالوا: الله ورسوله امن، فقال: اما إنكم لو شئتم ان تقولوا كذا وكذا، وكان من الامر كذا وكذا لاشياء عددها " زعم عمر وان لا يحفظها، فقال: " الا ترضون ان يذهب الناس بالشاء والإبل، وتذهبون برسول الله إلى رحالكم الانصار شعار، والناس دثار ولولا الهجرة لكنت امرا من الانصار، ولو سلك الناس واديا وشعبا، لسلكت وادي الانصار وشعبهم، إنكم ستلقون بعدي اثرة، فاصبروا حتى تلقوني على الحوض ".
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حنین فتح کیا اور غنیمت تقسیم کی اور مؤلفتہ القلوب کو مال دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر لگی کہ انصار چاہتے ہیں کہ جیسا اور لوگوں کو حصہ ملا ہے ویسا ہی ہم کو بھی ملے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ پڑھا اور اللہ کی حمد و ثناء کی پھر فرمایا: ”اے انصار کے گروہ! کیا میں نے تم کو گمراہ نہیں پایا پھر اللہ نے تم کو ہدایت کی میرے سبب سے اور کیا میں نے محتاج نہیں پایا تم کو، پھر اللہ نے میرے سبب سے تم کو امیر کیا اور کیا میں نے تم کو متفرق نہیں پایا، پھر اللہ نے اکٹھا کر دیا تم کو۔“ (انصار میں دو قبیلے بہت بڑے تھے ایک اوس، دوسرے خزرج ان میں سو برس سے برابر لڑائی چلی آتی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے اسے دور کیا) اور وہ کہتے تھے: اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ان پر بہت احسان ہے (یعنی جو آپ نے کیا وہی حق ہے ہم اس پر راضی ہیں) پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے جواب نہیں دیتے۔“ انہوں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول کا ہم پر بہت احسان ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو کہ ایسا ایسا ہو۔“ کئی چیزوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا کہ عمرو کہتے ہیں: میں انہیں بھول گیا (تو یہ نہیں ہو سکتا) پھر فرمایا: ”تم اس سے خوشی نہیں ہوتے کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے کر اپنے گھر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے گھر جاؤ۔“ پھر فرمایا: ”انصار استر ہیں (یعنی بدن سے ہمارے لگے ہوئے ہیں جیسے استر لگا ہوتا ہے) اور باقی لوگ ابرہ ہیں (یعنی بہ نسبت انصار کے ہم سے دور ہیں جیسے ابرہ بند سے دور ہوتا ہے) اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ایک آدمی ہوتا اور اگر لوگ ایک میدان اور گھاٹی میں جائیں تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں جاؤں اور میرے بعد لوگ تم کو پیچھے ڈالیں گے (یعنی تم کو نہ دے کر اوروں کو دیں گے) تو تم صبر کرنا یہاں تک کہ ملنا مجھ سے حوض پر۔“