كِتَاب الزَّكَاةِ زکاۃ کے احکام و مسائل

حدثنا محمد بن ابي عمر المكي ، حدثنا سفيان ، عن عمر بن سعيد بن مسروق ، عن ابيه ، عن عباية بن رفاعة ، عن رافع بن خديج ، قال: اعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم ابا سفيان بن حرب، وصفوان بن امية، وعيينة بن حصن، والاقرع بن حابس، كل إنسان منهم مائة من الإبل، واعطى عباس بن مرداس دون ذلك، فقال عباس بن مرداس: انجعل نهبي ونهب العبيد بين عيينة والاقرع فما كان بدر ولا حابس يفوقان مرداس في المجمع وما كنت دون امرئ منهما ومن تخفض اليوم لا يرفع، قال: فاتم له رسول الله صلى الله عليه وسلم مائة،

‏‏‏‏ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان اور صفوان اور عیینہ اور اقرع ان سب کو سو سو اونٹ دئیے اور عباس بن مرداس کو کچھ کم دئیے تو عباس نے یہ اشعار کہے۔ جو اوپر مذکور ہوئے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سو اونٹ پورے کردئیے۔ ترجمہ اشعار: آپ میرا اور میرے گھوڑے کا حصہ جس کا نام عبید تھا عینیہ اور اقراع کے بیچ میں مقرر فرماتے ہیں حالانکہ عیینہ اور اقرع دونوں مرداس سے یعنی مجھ سے کسی مجمع میں بڑھ نہیں سکتے اور میں ان دونوں سے کچھ کم نہیں ہوں اور آج جس کی بات نیچے ہو گئی وہ پھر اوپر نہ ہوئی۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹ پورے کر دئیے۔

صحيح مسلم # 2443
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp