كِتَاب الزَّكَاةِ زکاۃ کے احکام و مسائل

حدثنا محمد بن الوليد ، حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن ابي التياح ، قال: سمعت انس بن مالك ، قال: لما فتحت مكة، قسم الغنائم في قريش، فقالت الانصار: إن هذا لهو العجب إن سيوفنا تقطر من دمائهم، وإن غنائمنا ترد عليهم، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فجمعهم، فقال: " ما الذي بلغني عنكم؟ "، قالوا: هو الذي بلغك، وكانوا لا يكذبون، قال: " اما ترضون ان يرجع الناس بالدنيا إلى بيوتهم، وترجعون برسول الله إلى بيوتكم، لو سلك الناس واديا او شعبا، وسلكت الانصار واديا او شعبا، لسلكت وادي الانصار، او شعب الانصار ".

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب مکہ فتح ہوا تو غنیمت قریش میں بانٹی گئی اور انصار نے کہا: یہ بڑی تعجب کی بات ہے کہ ہماری تو تلواریں خون بہائیں اور غنیمت یہ لوگ لے جائیں اور یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اکھٹا کیا اور فرمایا: یہ کیا بات ہے جو مجھے تم سے پہنچی ہے؟ انہوں نے غرض کی کہ جی ہاں وہی بات ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی اور وہ لوگ کبھی جھوٹ نہیں بولتے تھے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کو خوشی نہیں ہوتی کہ اور لوگ دنیا لے کر اپنے گھر جائیں اور تم اللہ کے رسول کو لے کر اپنے گھر جاؤ اور میرا حال تو یہ ہے کہ اگر یہ لوگ ایک میدان کی راہ لیں یا گھاٹی کی اور انصار ایک وادی یا گھاٹی کی تو میں انصار کی وادی میں چلوں یا انہی کی گھاٹی میں۔

صحيح مسلم # 2440
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp