كِتَاب الزَّكَاةِ زکاۃ کے احکام و مسائل

حدثني حرملة بن يحيى التجيبي ، اخبرنا عبد الله بن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، اخبرني انس بن مالك ، ان اناسا من الانصار قالوا يوم حنين حين افاء الله على رسوله من اموال هوازن ما افاء، فطفق رسول الله صلى الله عليه وسلم يعطي رجالا من قريش المائة من الإبل، فقالوا: يغفر الله لرسول الله يعطي قريشا ويتركنا، وسيوفنا تقطر من دمائهم، قال انس بن مالك: فحدث ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم من قولهم، فارسل إلى الانصار فجمعهم في قبة من ادم، فلما اجتمعوا جاءهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: " ما حديث بلغني عنكم؟ " فقال له فقهاء الانصار: اما ذوو راينا يا رسول الله فلم يقولوا شيئا، واما اناس منا حديثة اسنانهم قالوا: يغفر الله لرسوله يعطي قريشا، ويتركنا وسيوفنا تقطر من دمائهم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " فإني اعطي رجالا حديثي عهد بكفر اتالفهم، افلا ترضون ان يذهب الناس بالاموال، وترجعون إلى رحالكم برسول الله، فوالله لما تنقلبون به خير مما ينقلبون به "، فقالوا: بلى يا رسول الله قد رضينا، قال: " فإنكم ستجدون اثرة شديدة، فاصبروا حتى تلقوا الله ورسوله، فإني على الحوض "، قالوا: سنصبر،

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: انصار کے چند لوگوں نے حنین کے دن کہا، جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اموال ہوازن میں سے کچھ مال بغیر لڑے بھڑے دلوا دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند آدمیوں کو قریش میں سے سو اونٹ دئیے تو انصار کے لوگ کہنے لگے: اللہ اپنے رسول کہ بخشے کہ وہ قریش کو دیتے ہیں ہمیں چھوڑ کر اور ہماری تلواریں ابھی تک قریش کا خون ٹپکا رہی ہیں۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلا بھیجا اور ان کو چمڑے کے خیمے میں جمع کیا پھر جب سب جمع ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: یہ کیا بات ہے جو تمہارے طرف سے مجھے پہنچی ہے؟ تب ان میں سے سمجھ دار لوگوں نے کہا کہ جو ہم میں فہمیدہ لوگ ہیں یارسول اللہ انہوں نے تو کچھ بھی نہیں کہا، کم سن لوگ ہم میں سے بولے کہ اللہ بخشے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ قریش کو دیتے ہیں اور ہم کو نہیں دیتے اور ہماری تلواریں ان کے خون ابھی تک ٹپکا رہی ہیں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بعض ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جو ابھی کافر تھے ان کا دل خوش کرنے کو اور تم لوگ خوش نہیں ہوتے اس سے کہ لوگ تو مال لے کر اپنے گھر چلے جائیں اور تم اللہ کے رسول کو لے کر اپنے گھر جاؤ۔ سو البتہ قسم ہے اللہ تعالیٰ کی تم جو لے کر گھر جاؤ گے وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لے کر گھر جائیں گے۔ (البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن ساری دنیا سے بہتر ہے) پھر سب انصار نے کہا: ہاں یا رسول اللہ! ہم راضی ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگے تم پر بہت لوگ مقدم کیئے جائیں گے۔ (یعنی تمہیں چھوڑ کر اوروں کو دیں گے) تو تم صبر کرنا یہاں تک کہ ملاقات کرو تم اللہ سے اور اس کے رسول سے کہ میں حوض (کوثر) پر ہوں گا۔ انہوں نے کہا: اب ہم صبر کریں گے۔ «بعون الله و قوته» ‏‏‏‏

صحيح مسلم # 2436
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp