كِتَاب الزَّكَاةِ زکاۃ کے احکام و مسائل

حدثنا الحسن بن علي الحلواني ، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد ، حدثنا ابي ، عن صالح ، عن إسماعيل بن محمد بن سعد ، قال: سمعت محمد بن سعد يحدث بهذا الحديث يعني حديث الزهري الذي ذكرنا، فقال في حديثه: فضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده بين عنقي وكتفي، ثم قال: " اقتالا اي سعد إني لاعطي الرجل ".

‏‏‏‏ سیدنا محمد بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہی روایت زہری کی مروی ہوئی۔ اس میں اتنی بات زیادہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن اور شانے کے بیچ میں ہاتھ مارا اور فرمایا: کیا لڑتے ہو اے سعد!۔ پھر آگے وہی بات فرمائی (یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت سے فرمایا کہ کیا تم ہم سے لڑتے ہو حالانکہ ان کی کیا مجال تھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑتے)۔

صحيح مسلم # 2435
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp