كِتَاب الزَّكَاةِ زکاۃ کے احکام و مسائل

حدثنا ابو الخطاب زياد بن يحيى الحساني ، حدثنا حاتم بن وردان ابو صالح ، حدثنا ايوب السختياني ، عن عبد الله بن ابي مليكة ، عن المسور بن مخرمة ، قال: قدمت على النبي صلى الله عليه وسلم اقبية، فقال لي ابي مخرمة: انطلق بنا إليه عسى ان يعطينا منها شيئا، قال: فقام ابي على الباب فتكلم، فعرف النبي صلى الله عليه وسلم صوته، فخرج ومعه قباء وهو يريه محاسنه، وهو يقول: " خبات هذا لك، خبات هذا لك ".

‏‏‏‏ سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قبائیں آئیں اور مجھ سے میرے باپ سیدنا مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے بیٹے، میرے ساتھ چلو شاید ہم کو بھی اس میں سے کچھ دیں، غرض میرے باپ دروازے پر کھڑے رہے اور بات کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچانی اور نکلے اور آپ کے پاس ایک قبا تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پھول بوٹوں کی طرف نظر کرتے تھے اور فرماتے تھے: یہ میں نے تمہارے لیے اٹھا رکھی تھی، یہ میں نے تمہارے لیے اٹھا رکھی تھی۔

صحيح مسلم # 2432
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp