كِتَاب الزَّكَاةِ زکاۃ کے احکام و مسائل

حدثنا عمرو الناقد ، حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي ، قال: سمعت مالكا . ح وحدثني يونس بن عبد الاعلى واللفظ له، اخبرنا عبد الله بن وهب ، حدثني مالك بن انس ، عن إسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة ، عن انس بن مالك ، قال: " كنت امشي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه رداء نجراني غليظ الحاشية، فادركه اعرابي، فجبذه بردائه جبذة شديدة نظرت إلى صفحة عنق رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقد اثرت بها حاشية الرداء من شدة جبذته، ثم قال: يا محمد مر لي من مال الله الذي عندك، فالتفت إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فضحك، ثم امر له بعطاء "،

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا چاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران (شہر کا نام ہے) کی چادر اوڑھی ہوئی تھی جس کا کنارہ موٹا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک گاؤں کا آدمی ملا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چادر سمیت کھینچا بہت زور سے کہ میں نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن کے موہرے پر چادر کی نشان بن گیا اور اس کا حاشیہ گڑ گیا۔ اس کے زور سے کھینچنے کے سبب سے، پھر کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! حکم کرو میرے لئے اس مال میں سے کچھ دینے کا جو اللہ کا دیا آپ کے پاس ہے۔ سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور ہنسے اور حکم کیا اس کو کچھ دینے کا۔

صحيح مسلم # 2429
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp