كِتَاب الزَّكَاةِ زکاۃ کے احکام و مسائل

حدثني علي بن حجر ، اخبرنا إسماعيل بن إبراهيم ، عن هشام صاحب الدستوائي ، عن يحيى بن ابي كثير ، عن هلال بن ابي ميمونة ، عن عطاء بن يسار ، عن ابي سعيد الخدري ، قال: جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر، وجلسنا حوله، فقال: " إن مما اخاف عليكم بعدي ما يفتح عليكم من زهرة الدنيا وزينتها "، فقال رجل: او ياتي الخير بالشر يا رسول الله؟، قال: فسكت عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقيل له: ما شانك تكلم رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا يكلمك؟، قال: وراينا انه ينزل عليه فافاق يمسح عنه الرحضاء، وقال: " إن هذا السائل وكانه حمده "، فقال: " إنه لا ياتي الخير بالشر، وإن مما ينبت الربيع يقتل او يلم، إلا آكلة الخضر فإنها اكلت حتى إذا امتلات خاصرتاها، استقبلت عين الشمس فثلطت وبالت، ثم رتعت وإن هذا المال خضر حلو، ونعم صاحب المسلم هو، لمن اعطى منه المسكين واليتيم وابن السبيل "، او كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " وإنه من ياخذه بغير حقه كان كالذي ياكل ولا يشبع، ويكون عليه شهيدا يوم القيامة ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے وہی روایت بیان کی مگر یہ بات زیادہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے تھے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھے تھے اور آگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی مضمون فرمایا دینا کی زینت کا۔ تب ایک شخص نے عرض کی کہ کیا خیر کا نتیجہ شر ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہو رہے۔ لوگوں نے اس شخص سے کہا: تو نے کیوں ایسی بات کہی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھ سے بات نہ کی اور ہم کو خیال ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی ہے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسینہ پونچھا اور فرمایا: اس سائل نے اچھی بات کہی۔ پھر آپ نے وہی مثال سبزہ چرنے والی کی بیان کی اور فرمایا: یہ مال ہرا ہے، میٹھا ہے، اور بہت اچھا رفیق ہے اس مسلمان کا جو مسکین کو اور یتیم کو اور مسافر کو دے دیا اور کچھ فرمایا، اخیر میں یہ فرمایا: کہ وہ مال اس پر قیامت کے دن گواہ ہو گا۔ باقی مضمون وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحيح مسلم # 2423
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp