كِتَاب الزَّكَاةِ زکاۃ کے احکام و مسائل

حدثني حدثني سويد بن سعيد ، حدثنا علي بن مسهر ، عن داود ، عن ابي حرب بن ابي الاسود ، عن ابيه ، قال: بعث ابو موسى الاشعري إلى قراء اهل البصرة، فدخل عليه ثلاث مائة رجل، قد قرءوا القرآن، فقال " انتم خيار اهل البصرة وقراؤهم فاتلوه، ولا يطولن عليكم الامد، فتقسو قلوبكم كما قست قلوب من كان قبلكم، وإنا كنا نقرا سورة كنا نشبهها في الطول والشدة ببراءة فانسيتها، غير اني قد حفظت منها لو كان لابن آدم واديان من مال لابتغى واديا ثالثا، ولا يملا جوف ابن آدم إلا التراب، وكنا نقرا سورة كنا نشبهها بإحدى المسبحات فانسيتها، غير اني حفظت منها يايها الذين آمنوا لم تقولون ما لا تفعلون سورة الصف آية 2 فتكتب شهادة في اعناقكم فتسالون عنها يوم القيامة ".

‏‏‏‏ ابوالاسود نے کہا: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے قاریوں کو بلوا بھیجا اور وہ سب تین سو قاری ان کے پاس آئے اور انہوں نے قرآن پڑھا اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ تم بصرہ کے سب لوگوں سے بہتر ہو اور وہاں کے قاری ہو، سو قرآن پڑھتے رہو اور بہت مدت گزر جانے سے سست نہ ہو جاؤ کہ تمہارے دل سخت ہو جائیں جیسے تم سے اگلوں کے دل سخت ہو گئے اور ہم ایک سورت پڑھا کرتے تھے جو طول میں اور سخت وعیدوں میں برأۃ کے برابر تھی پھر میں اسے بھول گیا مگر اتنی یاد رہی کہ اگر آدمی کے دو میدان ہوتے ہیں مال کے تب بھی تیسرا ڈھونڈتا رہتا اور آدمی کا پیٹ نہیں بھرتا مگر مٹی سے اور ہم ایک سورت اور پڑھتے تھے اور اس کو مسبحات میں کی ایک سورت کے برابر جانتے تھے میں وہ بھی بھول گیا مگر اس میں سے یہ آیت یاد ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لاَ تَفْعَلُونَ» (۶۱:الصف:۲) اے ایمان والو! کیوں کہتے ہو وہ بات جو کرتے نہیں، اور جو بات ایسی کہتے ہو کہ کرتے نہیں وہ تمہاری گردنوں میں لکھ دی جاتی ہے گواہی کے طور پر کہ اس کا سوال ہو گا تم سے قیامت کے دن۔

صحيح مسلم # 2419
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp