كِتَاب الزَّكَاةِ زکاۃ کے احکام و مسائل

وحدثنا هارون بن معروف ، حدثنا عبد الله بن وهب . ح وحدثني حرملة بن يحيى ، اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، عن سالم بن عبد الله بن عمر ، عن ابيه ، قال: سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه، يقول: قد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعطيني العطاء، فاقول: اعطه افقر إليه مني، حتى اعطاني مرة مالا، فقلت: اعطه افقر إليه مني، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " خذه وما جاءك من هذا المال، وانت غير مشرف ولا سائل فخذه، وما لا فلا تتبعه نفسك ".

‏‏‏‏ سالم نے اپنے باپ سے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ مال دیا کرتے تھے اور میں کہتا تھا کہ جو مجھ سے زیادہ احتیاج رکھتا ہو اس کو عنایت کیجئیے یہاں تک کہ ایک بار مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال دیا اور میں نے عرض کیا کہ جسے مجھ سے زیادہ حاجت ہو اسے عنایت فرمایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے لو اور اس مال میں سے جو تمہارے پاس بغیر لالچ کے اور بغیر مانگے آئے اس کو لے لیا کرو اور جو اس طرح نہ آئے اس کو خیال بھی نہ کرو۔

صحيح مسلم # 2405
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp