كِتَاب الزَّكَاةِ زکاۃ کے احکام و مسائل

حدثني هناد بن السري ، حدثنا ابو الاحوص ، عن بيان ابي بشر ، عن قيس بن ابي حازم ، عن ابي هريرة ، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " لان يغدو احدكم فيحطب على ظهره، فيتصدق به ويستغني به من الناس، خير له من ان يسال رجلا اعطاه او منعه ذلك، فإن اليد العليا افضل من اليد السفلى، وابدا بمن تعول "،

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، فرماتے تھے: اگر کوئی صبح کو جا کر ایک گٹھا لکڑی کا اپنی پیٹھ پر لادے اور اس سے صدقہ دے «‏‏‏‏» اور اپنا کام بھی نکالے کہ لوگوں کا محتاج نہ ہو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے مانگتا پھرے کہ وہ دیں یا نہ دیں اور بلاشبہ اوپر کا ہاتھ افضل ہے نیچے کے ہاتھ سے اور پہلے صدقہ اس کو دے جو تیرے سر روٹی کھاتا ہے۔

صحيح مسلم # 2400
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp