حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا زيد بن الحباب ، اخبرني معاوية بن صالح ، حدثني ربيعة بن يزيد الدمشقي ، عن عبد الله بن عامر اليحصبي ، قال: سمعت معاوية ، يقول: إياكم واحاديث إلا حديثا كان في عهد عمر، فإن عمر كان يخيف الناس في الله عز وجل، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهو يقول: " من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين ". (حديث مرفوع) وسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إنما: " انا خازن فمن اعطيته عن طيب نفس، فيبارك له فيه، ومن اعطيته عن مسالة وشره، كان كالذي ياكل ولا يشبع ".
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بچو تم حدیث کی روایت سے مگر وہ حدیثیں جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تھیں، اسی لیے کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو ڈرایا کرتے تھے اللہ پاک سے اور سنا ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے: ”اللہ تعالیٰ جس کی بھلائی چاہتا ہے اس کو دین کی سمجھ دیتا ہے۔“ اور سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے: ”میں تو فقط خزانچی ہوں پھر جس کو میں دل کی خوشی سے دوں (یعنی بغیر سوال اور لجاجت سائل کے) تو اس میں اس کو برکت ہوتی ہے اور جس کو میں مانگنے سے اور اس کے ستانے سے دوں اس کا حال ایسا ہے کہ گویا کھاتا ہے اور پیٹ نہیں بھرتا۔“