كِتَاب الزَّكَاةِ زکاۃ کے احکام و مسائل

وحدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا حاتم يعني ابن إسماعيل ، عن يزيد يعني ابن ابي عبيد ، قال: سمعت عميرا مولى آبي اللحم، قال: امرني مولاي ان اقدد لحما، فجاءني مسكين فاطعمته منه، فعلم بذلك مولاي فضربني، فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له، فدعاه فقال: " لم ضربته "، فقال: يعطي طعامي بغير ان آمره، فقال: " الاجر بينكما ".

‏‏‏‏ سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے جو غلام آزاد ہیں ابی اللحم کے، انہوں نے کہا: مجھے حکم دیا میرے مالک نے کہ گوشت سکھاؤں اور ایک فقیر آ گیا سو میں نے اسے کھانے کے موافق دے دیا۔ اور جب مالک کو خبر ہوئی تو مجھے مارا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا (سبحان اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم امان تھے یتیموں اور بیواؤں اور مظلوموں کے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور فرمایا: اس کو کیوں تم نے مارا؟۔ انہوں نے عرض کی کہ یہ میرا کھانا میرے بغیر حکم کے دے دیتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثواب تم دونوں کو ہے۔

صحيح مسلم # 2369
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp