كِتَاب الزَّكَاةِ زکاۃ کے احکام و مسائل

وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابن نمير ، وزهير بن حرب جميعا، عن حفص بن غياث ، قال ابن نمير: حدثنا حفص، عن محمد بن زيد ، عن عمير مولى آبي اللحم، قال: كنت مملوكا، فسالت رسول الله صلى الله عليه وسلم ااتصدق من مال موالي بشيء؟، قال: " نعم والاجر بينكما نصفان ".

‏‏‏‏ عمیر جو غلام آزاد ہیں آبی اللحم رضی اللہ عنہ کے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنے مالکوں کے مال سے کچھ صدقہ دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور ثواب اس کا تم دونوں کو ہے آدھا آدھا۔

صحيح مسلم # 2368
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp