كِتَاب الزَّكَاةِ زکاۃ کے احکام و مسائل

حدثنا عمرو الناقد ، حدثنا سفيان بن عيينة ، عن ابي الزناد ، عن الاعرج ، عن ابي هريرة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال عمرو : وحدثنا سفيان بن عيينة ، قال: وقال ابن جريج ، عن الحسن بن مسلم ، عن طاوس ، عن ابي هريرة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " مثل المنفق والمتصدق كمثل رجل عليه جبتان او جنتان من لدن ثديهما إلى تراقيهما، فإذا اراد المنفق، وقال الآخر: فإذا اراد المتصدق ان يتصدق سبغت عليه او مرت، وإذا اراد البخيل ان ينفق قلصت عليه واخذت كل حلقة موضعها، حتى تجن بنانه وتعفو اثره "، قال: فقال ابو هريرة، فقال: " يوسعها فلا تتسع ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ فرمایا: مثال خرچ کرنے والے کی اور صدقہ دینے والے کی (یہاں راوی سے غلطی ہوئی اور صحیح یہ ہے کہ مثال بخیل کی اور صدقہ دینے والے کی) مانند اس شخص کی ہے کہ اس کے اوپر دو کرتے ہوں یا دو زرہیں (راوی کو شک ہے مگر دو زرہیں صحیح ہے) ان دونوں کی چھاتی سے گلے تک پھر جب خرچ کرنے والا چاہے اور دوسرے راوی نے کہا کہ جب صدقہ دینے والا صدقہ دینا چاہے تو وہ زرہ کشادہ ہو جائے اور اس کے سارے بدن پر پھیل جائے (یعنی اسی طرح صدقہ دینے والے کا دل کشادہ ہو جاتا ہے) اور جی کھول کر اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور جب بخیل خرچ کرنا چاہے تو وہ زرہ اس پر تنگ ہو جائے اور ہر حلقہ اپنی جگہ پر کس جائے یہاں تک کہ ڈھانپ لے اس کے پورں تک کو اور مٹا دے اس کے قدموں کے نشان کو جو زمین پر ہوں۔ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ اس کو کشادہ کرنا چاہتا ہے مگر کشادہ نہیں ہوتا۔

صحيح مسلم # 2359
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp