كِتَاب الزَّكَاةِ زکاۃ کے احکام و مسائل

حدثني يحيى بن معين ، حدثنا غندر ، حدثنا شعبة . ح وحدثنيه بشر بن خالد واللفظ له، اخبرنا محمد يعني ابن جعفر ، عن شعبة ، عن سليمان ، عن ابي وائل ، عن ابي مسعود ، قال: " امرنا بالصدقة، قال: كنا نحامل، قال: فتصدق ابو عقيل بنصف صاع، قال: وجاء إنسان بشيء اكثر منه، فقال المنافقون: " إن الله لغني عن صدقة هذا وما فعل هذا الآخر إلا رياء، فنزلت الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين في الصدقات والذين لا يجدون إلا جهدهم سورة التوبة آية 79، ولم يلفظ بشر بالمطوعين،

‏‏‏‏ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم کو حکم ہوا صدقہ کا اور ہم بوجھ ڈھویا کرتے تھے اور صدقہ دیا ابوعقیل نے آدھا صاع (یعنی دو سیر) اور ایک شخص نے کچھ اس سے زیادہ دیا تو منافق کہنے لگے: اللہ کو اس کے صدقہ کی کچھ پروا نہیں ہے اور اس دوسرے نے تو صرف دکھانے ہی کو صدقہ دیا ہے پھر یہ آیت اتری «الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِى الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لاَ يَجِدُونَ إِلاَّ جُهْدَهُمْ» جو لوگ طعن کرتے ہیں۔ خوشی سے صدقہ دینے والے مؤمنوں کو اور ان لوگوں کو جو نہیں پاتے ہیں مگر اپنی مزدوری۔ اور بشر کی روایت میں «مطوعين» کا لفظ نہیں ہے۔

صحيح مسلم # 2355
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp