حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابو كريب ، قالا: حدثنا ابو معاوية ، عن الاعمش ، عن عمرو بن مرة ، عن خيثمة ، عن عدي بن حاتم ، قال: ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم النار فاعرض واشاح، ثم قال: " اتقوا النار "، ثم اعرض واشاح حتى ظننا انه كانما ينظر إليها، ثم قال: " اتقوا النار ولو بشق تمرة، فمن لم يجد فبكلمة طيبة " ولم يذكر ابو كريب كانما، وقال: حدثنا ابو معاوية حدثنا الاعمش.
سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوزخ کا ذکر کیا اور منہ پھیر لیا اور بہت منہ پھیرا اور فرمایا: ”بچو تم دوزخ سے۔“ پھر منہ پھیرا اور بہت منہ پھیرا یہاں تک کہ گمان کیا ہم نے کہ گویا وہ اس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ پھر فرمایا: ”بچو تم دوزخ سے اگرچہ ایک کھجور کا ٹکڑا دے کر ہو اور یہ بھی نہ پائے تو اچھی سی کوئی بات کہہ کر سہی۔“ اور ابوکریب کی روایت میں گویا کا لفظ نہیں ہے۔