كِتَاب الزَّكَاةِ زکاۃ کے احکام و مسائل

حدثنا علي بن حجر السعدي ، وإسحاق بن إبراهيم ، وعلي بن خشرم ، قال ابن حجر حدثنا، وقال الآخران: اخبرنا عيسى بن يونس ، حدثنا الاعمش ، عن خيثمة ، عن عدي بن حاتم ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما منكم من احد إلا سيكلمه الله ليس بينه وبينه ترجمان، فينظر ايمن منه فلا يرى إلا ما قدم، وينظر اشام منه فلا يرى إلا ما قدم، وينظر بين يديه فلا يرى إلا النار تلقاء وجهه، فاتقوا النار ولو بشق تمرة "، زاد ابن حجر، قال الاعمش: وحدثني عمرو بن مرة ، عن خيثمةمثله، وزاد فيه: " ولو بكلمة طيبة، وقال إسحاق: قال الاعمش، عن عمرو بن مرة ، عن خيثمة .

‏‏‏‏ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرمایا: تم میں سے ہر شخص کو اللہ تعالیٰ سے بات کرنا ہو گی اس طرح کہ اللہ اور اس کے بیچ میں کوئی ترجمہ کرنے والا نہ ہو گا اور آدمی داہنی طرف دیکھے گا تو اس کے اگلے پچھلے عمل نظر آئیں گے اور بائیں طرف دیکھے گا تو وہی نظر آئیں گے اور آگے دیکھے گا تو کچھ نہ سوجھے گا سوا دوزخ کے جو اس کے منہ کے سامنے ہو گی۔ سو بچو آگ سے اگرچہ ایک کھجور کا ٹکڑا دے کر بھی ہو۔ اور دوسری روایت میں یہ زیادہ ہے کہ اگرچہ ایک پاکیزہ بات بھی کہہ کر ہو۔

صحيح مسلم # 2348
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp