كِتَاب الزَّكَاةِ زکاۃ کے احکام و مسائل

حدثنا حسن بن علي الحلواني ، حدثنا ابو توبة الربيع بن نافع ، حدثنا معاوية يعني ابن سلام ، عن زيد ، انه سمع ابا سلام ، يقول: حدثني عبد الله بن فروخ ، انه سمع عائشة ، تقول: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " إنه خلق كل إنسان من بني آدم على ستين وثلاث مائة مفصل، فمن كبر الله، وحمد الله، وهلل الله، وسبح الله، واستغفر الله، وعزل حجرا عن طريق الناس، او شوكة، او عظما عن طريق الناس، وامر بمعروف، او نهى عن منكر عدد تلك الستين والثلاث مائة السلامى، فإنه يمشي يومئذ وقد زحزح نفسه عن النار "، قال ابو توبة: وربما قال: " يمسي "،

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر آدمی کے بدن میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں۔ سو جس نے اللہ کی بڑائی کی اور اللہ کی حمد کی اور لا الہ الا اللہ کہا اور سبحان اللہ کہا اور استغفراللہ کہا اور پتھر لوگوں کی راہ سے ہٹا دیا یا کوئی کانٹا یا ہڈی راہ سے ہٹا دی یا اچھی بات سکھائی یا بری بات سے روکا اس تین سو ساٹھ جوڑوں کی گنتی کے برابر وہ اس دن چل رہا ہے اور ہٹ گیا اپنی جان کو لے کر دوزخ سے۔ ابو توبہ نے اپنی روایت میں یہ بھی کہا کہ شام کرتا ہے وہ اسی حال میں۔

صحيح مسلم # 2330
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp