كِتَاب الزَّكَاةِ زکاۃ کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا وكيع ، حدثنا الاعمش ، عن المعرور بن سويد ، عن ابي ذر ، قال: انتهيت إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو جالس في ظل الكعبة، فلما رآني، قال: " هم الاخسرون ورب الكعبة "، قال: فجئت حتى جلست فلم اتقار ان قمت، فقلت: يا رسول الله فداك ابي وامي، من هم؟، قال: " هم الاكثرون اموالا، إلا من قال هكذا وهكذا وهكذا من بين يديه ومن خلفه وعن يمينه وعن شماله، وقليل ما هم ما من صاحب إبل ولا بقر ولا غنم، لا يؤدي زكاتها إلا جاءت يوم القيامة، اعظم ما كانت واسمنه، تنطحه بقرونها وتطؤه باظلافها، كلما نفدت اخراها، عادت عليه اولاها، حتى يقضى بين الناس "،

‏‏‏‏ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے جب مجھ کو دیکھا تو فرمایا: رب کعبہ کی قسم! وہی نقصان والے ہیں۔ تب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بیٹھ گیا اور نہ ٹھہر سکا کہ کھڑا ہو گیا اور عرض کی اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں وہ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بہت مال والے ہیں مگر جس نے خرچ کیا ادھر اور ادھر اور جدھر مناسب ہوا اور دیا آگے سے اور پیچھے سے اور داہنے سے اور بائیں سے اور ایسے لوگ تھوڑے ہیں (یعنی جہاں دین کی تائید اور اللہ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی دیکھے وہاں بے تکلف خرچ کیا) اور جو اونٹ والا، گائے والا، بکری والا کہ ان کی زکوٰۃ نہیں دیتا قیامت کے دن آئیں گے وہ جانور ان سب دنوں سے موٹے ہو کر اور چربیلے جیسے دنیا میں تھے اور اپنے سینگ سے اس کو کوچیں گے اور اپنے کھروں سے اس کو روندیں گے جب پچھلا ان کا گزر جائے گا اگلا پھر اس پر آ جائے گا۔ یہی عذاب ہوتا رہے گا جب تک کہ فیصلہ ہو بندوں کا۔

صحيح مسلم # 2300
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp