كِتَاب الزَّكَاةِ زکاۃ کے احکام و مسائل

حدثنا ابو كامل فضيل بن حسين الجحدري ، حدثنا عبد الواحد بن زياد ، حدثنا محمد بن ابي إسماعيل ، حدثنا عبد الرحمن بن هلال العبسي ، عن جرير بن عبد الله ، قال: جاء ناس من الاعراب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالوا: إن ناسا من المصدقين ياتوننا فيظلموننا، قال: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ارضوا مصدقيكم "، قال جرير: ما صدر عني مصدق منذ سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم، إلا وهو عني راض،

‏‏‏‏ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے کہا چند لوگ گاؤں کے آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اور عرض کی بعضے تحصیلددار ہمارے پاس آتے ہیں اور وہ ہم پر زیادتی کرتے ہیں (یعنی جانور اچھے سے اچھا لیتے ہیں حالانکہ متوسط لینا چاہیئے) تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم راضی کر دیا کرو اپنے تحصیل داروں کو۔ (یعنی اگرچہ وہ تم پر زیادتی بھی کریں) سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سے میں نے یہ سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تب سے کوئی تحصیل دار میرے پاس سے نہیں گیا مگر خوش ہو کر۔

صحيح مسلم # 2298
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp