وحدثني محمد بن عبد الملك الاموي ، حدثنا عبد العزيز بن المختار ، حدثنا سهيل بن ابي صالح ، عن ابيه ، عن ابي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما من صاحب كنز لا يؤدي زكاته، إلا احمي عليه في نار جهنم، فيجعل صفائح فيكوى بها جنباه وجبينه، حتى يحكم الله بين عباده في يوم كان مقداره خمسين الف سنة، ثم يرى سبيله إما إلى الجنة وإما إلى النار، وما من صاحب إبل لا يؤدي زكاتها، إلا بطح لها بقاع قرقر، كاوفر ما كانت تستن عليه، كلما مضى عليه اخراها ردت عليه اولاها، حتى يحكم الله بين عباده في يوم كان مقداره خمسين الف سنة، ثم يرى سبيله إما إلى الجنة وإما إلى النار، وما من صاحب غنم لا يؤدي زكاتها، إلا بطح لها بقاع قرقر، كاوفر ما كانت، فتطؤه باظلافها وتنطحه بقرونها ليس فيها عقصاء ولا جلحاء، كلما مضى عليه اخراها ردت عليه اولاها، حتى يحكم الله بين عباده في يوم كان مقداره خمسين الف سنة مما تعدون، ثم يرى سبيله إما إلى الجنة وإما إلى النار، قال سهيل: فلا ادري اذكر البقر ام لا؟، قالوا: فالخيل يا رسول الله، قال: الخيل في نواصيها، او قال: الخيل معقود في نواصيها، قال سهيل: انا اشك الخير إلى يوم القيامة، الخيل ثلاثة: فهي لرجل اجر، ولرجل ستر، ولرجل وزر، فاما التي هي له اجر، فالرجل يتخذها في سبيل الله، ويعدها له، فلا تغيب شيئا في بطونها إلا كتب الله له اجرا، ولو رعاها في مرج ما اكلت من شيء إلا كتب الله له بها اجرا، ولو سقاها من نهر كان له بكل قطرة تغيبها في بطونها اجر، حتى ذكر الاجر في ابوالها وارواثها، ولو استنت شرفا او شرفين كتب له بكل خطوة تخطوها اجر، واما الذي هي له ستر، فالرجل يتخذها تكرما وتجملا، ولا ينسى حق ظهورها وبطونها في عسرها ويسرها، واما الذي عليه وزر، فالذي يتخذها اشرا وبطرا وبذخا ورياء الناس، فذاك الذي هي عليه وزر، قالوا: فالحمر يا رسول الله؟، قال: ما انزل الله علي فيها شيئا إلا هذه الآية الجامعة الفاذة فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره {7} ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره {8} سورة الزلزلة آية 7-8 "،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی صاحب کنز (یعنی خزانہ والا) ایسا نہیں ہے جو زکوٰۃ نہ دیتا ہو مگر گرم کیا جائے گا وہ خزانہ اس جہنم کی آگ میں اور اس کے تختے بنائے جائیں گے پھر داغی جائیں گی اس سے ان کی دونوں کروٹیں اور ماتھا جب تک کہ فیصلہ کرے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا اتنے بڑے دن میں جس کا اندازہ پچاس ہزار برس ہے پھر اس کی راہ نکلے جنت کو جانے کی یا دوزخ کو اور جو اونٹ والا ایسا ہو کہ ان کی زکوٰۃ نہ دیتا ہو وہ لٹایا جائے گا ایک پٹ پر زمین برابر میں اور وہ اونٹ آئیں گے فربہ ہو کر جیسے دنیا میں بہت فربہی کے وقت تھے اور وہ اس کو روندیں گے اور جب ان میں کا پچھلا اس پر سے نکل جائے گا اگلا پھر لوٹ آئے گا (یہی صحیح ہے اور اوپر کی روایت میں وارد ہوا ہے کہ جب ان میں کا پہلا روندتا چلا جائے گا پچھلا آئے گا یہ راوی کی غلطی ہے اس لئے کہ اس میں معنی صحیح نہیں ہوتے نووی) یہاں تک کہ فیصلہ کرے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا اتنے بڑے دن میں جس کا اندازہ پچاس ہزار برس ہے، پھر اس کی راہ نکلے جنت میں جانے کی یا دوزخ میں، جو بکری والا ان کی زکوٰۃ نہیں دیتا وہ لٹایا جائے گا ایک پٹ پر برابر زمین میں اور وہ آئیں گی بہت موٹی ہو کر جیسی دنیا میں تھیں اور اس کو روندیں گی اپنے کھروں سے اور کونچیں گی اپنے سینگوں سے کہ ان میں کوئی سینگ مڑی ہوئی اور بے سینگ والی نہ ہو گی، جب اس پر سے پچھلی گزر جائے گی اگلی پھر آ جائے گی یہی عذاب ہوتا رہے گا، جب تک اللہ فیصلہ کرے اپنے بندوں کا ایسے دن میں جس کا اندازہ پچاس ہزار برس ہے تمہاری زندگی کے حساب سے پھر اس کی راہ نکالی جائے گی جنت کی طرف یا دوزخ کی طرف۔“ سہیل نے کہا: اور میں نہیں جانتا کہ گائے کا ذکر بھی آپ نے کیا یا نہیں؟ پھر عرض کی اور گھوڑے اے اللہ کے رسول؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانی میں بہتری یا فرمایا: گھوڑے کی پیشانی میں بہتری بندھی ہے۔“ سہیل نے کہا: مجھے اس میں شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں بہتری ہے قیامت کے دن تک“ (یعنی جہاد کا بڑا سامان گھوڑا ہے اور بہتری دین و دنیا کی جہاد میں ہے) پھر فرمایا: ”گھوڑے تین قسم میں ہیں ایک تو آدمی کے لیے ثواب ہے، دوسرا پردہ ہے (اس کے عیبوں کا)، تیرا وبال و عذاب ہے۔ سو جو ثواب ہے تو وہ اس شخص کے لئے ہے جس نے گھوڑا باندھا اللہ کی راہ میں اور تیار رکھا اسی واسطے (یعنی جہاد کو) سو وہ جو غائب کرتا ہے اپنے پیٹ میں اللہ اس کے مالک کے لئے ثواب لکھتا ہے (یعنی اس کا دانہ چارہ سب موجب ثواب ہے) اور اگر اس کو کسی چراگاہ میں چرایا تو جو کچھ اس نے کھایا اللہ نے اسے ثواب میں لکھا یا جس نہر سے اس نے پانی پلایا اس کے ہر قطرہ پر جو اس نے پیٹ میں اٹھایا ایک ثواب ہے یہاں تک کہ اس کے پیشاب اور لید میں ثواب کا ذکر فرمایا اور اگر ایک دو ٹیلے پر کود گیا تو ہر قدم پر جو اس نے رکھا ایک ثواب لکھا گیا اور جو مالک کا پردہ ہے وہ اس کا گھوڑا ہے جس نے احسان کرنے کو اور اپنی خوبی کے لئے باندھا اور اس کی سواری کا حق نہ بھولا (یعنی دوستوں کو مانگے کبھی کبھی غرباء کو چڑھا لیا) اور نہ اس کے پیٹ کا (یعنی دانے چارے پانی مصالحے کی خبر رکھے) اس کی تکلیف اور آرام میں اور جو وبال و عذاب ہے وہ اس کا گھوڑا ہے جس سے اترانے اور سرکشی اور شرارت کے لئے اور لوگوں کو دکھانے کے لئے باندھا، سو وہ اس پر وبال ہے۔“ پھر عرض کی کہ گدھے کا حال فرمائیے، اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”اللہ نے مجھ پر اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں اتارا مگر یہ آیت جامع بے مثل «فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ۔