كِتَاب الْجَنَائِزِ جنازے کے احکام و مسائل

حدثنا يحيى بن يحيى التميمي ، ويحيى بن ايوب ، وقتيبة بن سعيد ، قال يحيى بن يحيى اخبرنا، وقال الآخران: حدثنا إسماعيل بن جعفر ، عن شريك وهو ابن ابي نمر ، عن عطاء بن يسار ، عن عائشة ، انها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم كلما كان ليلتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج من آخر الليل إلى البقيع، فيقول: " السلام عليكم دار قوم مؤمنين، واتاكم ما توعدون، غدا مؤجلون، وإنا إن شاء الله بكم لاحقون، اللهم اغفر لاهل بقيع الغرقد "، ولم يقم قتيبة قوله: واتاكم.

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری جب میرے پاس ہوتی تھی تو آخر رات میں بقیع (قبرستان) کی طرف نکلتے تھے اور کہتے: سلام ہے تمہارے اوپر اے گھر والے مؤمنو! آ چکا تمہارے پاس جس کا تم سے وعدہ تھا کہ کل پاؤ گے ایک مدت کے بعد اور ہم اگر اللہ نے چاہا تو ملنے والے ہیں۔ یا اللہ! بخش بقیع غرقد والوں کو۔ اور قتیبہ کی روایت میں «وَأَتَاكُمْ» کا لفظ نہیں ہے۔

صحيح مسلم # 2255
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp