كِتَاب الْجَنَائِزِ جنازے کے احکام و مسائل

حدثنا يحيى بن يحيى ، وابو بكر بن ابي شيبة ، وزهير بن حرب ، قال يحيى: اخبرنا، وقال الآخران: حدثنا وكيع ، عن سفيان ، عن حبيب بن ابي ثابت ، عن ابي وائل ، عن ابي الهياج الاسدي ، قال: قال لي علي بن ابي طالب : " الا ابعثك على ما بعثني عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ ان لا تدع تمثالا إلا طمسته، ولا قبرا مشرفا إلا سويته "،

‏‏‏‏ ابی الھیاج اسدی رحمہ اللہ نے کہا: مجھ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم کو بھیجتا ہوں اس کے لئے مجھ کو بھیجا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہ چھوڑ کوئی تصویر مگر مٹا دے اس کو اور نہ چھوڑ کوئی بلند قبر مگر اس کو زمین کے برابر کر دے۔

صحيح مسلم # 2243
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp