كِتَاب الْجَنَائِزِ جنازے کے احکام و مسائل

وحدثني محمد بن المثنى ، وإسحاق بن إبراهيم ، وابن ابي عمر ، جميعا، عن الثقفي ، قال ابن المثنى: حدثنا عبد الوهاب ، قال: سمعت يحيى بن سعيد ، قال: اخبرني واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ الانصاري ، ان نافع بن جبيراخبره، ان مسعود بن الحكم الانصاري اخبره، انه سمع علي بن ابي طالب ، يقول في شان الجنائز: " إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قام ثم قعد "، وإنما حدث بذلك لان نافع بن جبير، راى واقد بن عمر وقام حتى وضعت الجنازة،

‏‏‏‏ واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ انصاری سے روایت ہے کہ نافع بن جبیر نے خبر دی کہ مسعود بن الحکم انصاری نے ان کو خبر دی کہ سنا انہوں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہ جنازوں کے حق میں فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے کھڑے ہو جاتے تھے (یعنی جنازہ دیکھ کر) پھر بیٹھنے لگے۔ اور یہ حدیث اس لئے روایت کی کہ نافع بن جبیر نے دیکھا واقد بن عمرو کو کہ وہ کھڑے رہے یہاں تک کہ جنازہ رکھا گیا۔

صحيح مسلم # 2228
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp