كِتَاب الْجَنَائِزِ جنازے کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا غندر ، عن شعبة . ح وحدثنا محمد بن المثنى ، وابن بشار ، قالا: حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن عمرو بن مرة ، عن ابن ابي ليلى ، ان قيس بن سعد ، وسهل بن حنيف كانا بالقادسية، فمرت بهما جنازة فقاما، فقيل لهما: إنها من اهل الارض، فقالا: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم مرت به جنازة فقام، فقيل: إنه يهودي، فقال: " اليست نفسا "،

‏‏‏‏ ابن ابی لیلیٰ نے کہا کہ قیس بن سعد اور سہل بن حنیف دونوں قادسیہ میں تھے اور ایک جنازہ گزرا۔ اور وہ کھڑے ہوئے۔ سو ان سے کہا گیا کہ وہ اس زمین کے لوگوں میں سے ہے (یعنی کفار میں سے) ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو عرض کیا کہ وہ یہودی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخر جان تو ہے۔

صحيح مسلم # 2225
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp