كِتَاب الْجَنَائِزِ جنازے کے احکام و مسائل

وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وزهير بن حرب ، جميعا، عن ابن عيينة ، قال ابو بكر: حدثنا سفيان بن عيينة ، عن الزهري ، عن سعيد ، عن ابي هريرة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " اسرعوا بالجنازة فإن تك صالحة فخير لعله، قال: تقدمونها عليه، وإن تكن غير ذلك فشر تضعونه عن رقابكم "،

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنازہ لے جانے میں جلدی کرو اس لیے کہ اگر نیک ہے تو اسے خیر کی طرف لے جاتے ہو اور اگر بد ہے تو اسے اپنی گردن سے اتارتے ہو۔

صحيح مسلم # 2186
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp