كِتَاب الْجَنَائِزِ جنازے کے احکام و مسائل

حدثنا هارون بن عبد الله ، وحجاج بن الشاعر ، قالا: حدثنا حجاج بن محمد ، قال: قال ابن جريج ، اخبرني ابو الزبير ، انه سمع جابر بن عبد الله يحدث، " ان النبي صلى الله عليه وسلم خطب يوما فذكر رجلا من اصحابه قبض فكفن في كفن غير طائل وقبر ليلا، فزجر النبي صلى الله عليه وسلم ان يقبر الرجل بالليل، حتى يصلى عليه إلا، ان يضطر إنسان إلى ذلك، وقال النبي صلى الله عليه وسلم: إذا كفن احدكم اخاه فليحسن كفنه ".

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ پڑھا اور اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص کا ذکر کیا کہ ان کا انتقال ہو گیا تھا اور ان کو ایسا کفن دیا تھا، جس سے ستر نہیں ڈھنپتا تھا اور شب کو دفن کر دیا تھا، پس جھڑکا ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر کہ رات کو ان کو دفن کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز نہ پڑھی اور ایسا نہ کرنا چاہیئے مگر جب انسان لاچار ہو جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھا کفن دے (یعنی تاکہ خوب ڈھانپنے والا ہو اس کے تمام بدن کا)۔

صحيح مسلم # 2185
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp