كِتَاب الْجَنَائِزِ جنازے کے احکام و مسائل

حدثنا يحيى بن يحيى ، وابو بكر بن ابي شيبة ، وابو كريب واللفظ ليحيى، قال يحيى اخبرنا، وقال الآخران: حدثنا ابو معاوية ، عن هشام بن عروة ، عن ابيه ، عن عائشة ، قالت: " كفن رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثلاثة اثواب بيض سحولية من كرسف، ليس فيها قميص ولا عمامة، اما الحلة فإنما شبه على الناس فيها، انها اشتريت له ليكفن فيها، فتركت الحلة وكفن في ثلاثة اثواب بيض سحولية "، فاخذها عبد الله بن ابي بكر، فقال: لاحبسنها حتى اكفن فيها نفسي، ثم قال: لو رضيها الله عز وجل لنبيه لكفنه فيها، فباعها وتصدق بثمنها ".

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا جو سحول کے بنے ہوئے تھے (سحول یمن میں ایک جگہ کا نام ہے) جو روئی کے تھے کہ ان میں کرتا تھا نہ عمامہ اور حلہ کا لوگوں کو شبہ ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ حلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خریدا گیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفن دیں پھر نہ دیا اور تین چادروں میں دیا جو سفید سحول کی بنی ہوئی تھیں۔ اور حلہ کو عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے لیا اور کہا: میں اسے رکھ چھوڑوں گا اور میں اپنا کفن اسی سے کروں گا۔ پھر کہا: اگر اللہ کو یہ پسند ہوتا تو اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کفن کے کام آتا سو اس کو بیچ ڈالا اور اس کی قیمت خیرات کر دی۔

صحيح مسلم # 2179
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp