كِتَاب الْجَنَائِزِ جنازے کے احکام و مسائل

وحدثنا يحيى بن يحيى التميمي ، وابو بكر بن ابي شيبة ، ومحمد بن عبد الله بن نمير ، وابو كريب واللفظ ليحيى، قال يحيى: اخبرنا، وقال الآخرون: حدثنا ابو معاوية ، عن الاعمش ، عن شقيق ، عن خباب بن الارت ، قال: هاجرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سبيل الله، نبتغي وجه الله، فوجب اجرنا على الله، فمنا من مضى لم ياكل من اجره شيئا، منهم مصعب بن عمير قتل يوم احد، فلم يوجد له شيء يكفن فيه إلا نمرة، فكنا إذا وضعناها على راسه خرجت رجلاه، وإذا وضعناها على رجليه خرج راسه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ضعوها مما يلي راسه، واجعلوا على رجليه الإذخر، ومنا من اينعت له ثمرته فهو يهدبها "،

‏‏‏‏ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ کی راہ میں ہجرت کی۔ ہماری غرض یہ تھی کہ اللہ راضی ہو۔ سو ہماری مزدوری اللہ پر ہو چکی، سو تم میں سے کسی نے تو ایسا کیا کہ اس نے اپنی مزدوری کا کوئی حصہ دنیا میں نہ کھایا، ان ہی میں سے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جو جنگ احد میں شہید ہوئے کہ ان کے کفن کو ایک چادر کے سوائے کچھ نہ ملا وہ بھی ایسی تھی کہ جب ہم ان کے سر پر ڈالتے تو پیر نکلے رہتے۔ (کھل جاتے) اور جو پیر پر ڈالتے تو سر نکلا رہتا (کھل جاتا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چادر تو سر پر ڈال دو اور پیروں کو اذخر سے چھپا دو۔ (اذخر ایک گھاس ہے مدینہ میں بہت ہوتی ہے) اور ہم میں سے کوئی ایسا ہے کہ اس کے پھل پک گئے اور وہ اس میں چن چن کر کھاتا ہے (یعنی دنیا میں بھی ایمان کے سبب سے ترقی پائی)۔

صحيح مسلم # 2177
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp