كِتَاب الْجَنَائِزِ جنازے کے احکام و مسائل

وحدثنا عمرو الناقد ، حدثنا يزيد بن هارون ، اخبرنا هشام بن حسان ، عن حفصة بنت سيرين ، عن ام عطية ، قالت: اتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم، ونحن نغسل إحدى بناته، فقال: " اغسلنها وترا خمسا او اكثر من ذلك "، بنحو حديث ايوب، وعاصم، وقال في الحديث، قالت: " فضفرنا شعرها ثلاثة اثلاث قرنيها وناصيتها ".

‏‏‏‏ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہم ان کی ایک صاحبزادی کو نہلا رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طاق بار غسل دو پانچ بار یا زیادہ۔ جیسے ایوب اور عاصم کی روایت میں آ چکا ہے۔ اور اس حدیث میں ہے کہ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر ہم نے ان کے بالوں کی تین چوٹیاں گوندھ دیں دونوں کنپٹیوں کی طرف کی اور ایک پیشانی کے سامنے کی۔

صحيح مسلم # 2174
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp