كِتَاب الْجَنَائِزِ جنازے کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وعمرو الناقد جميعا، عن ابي معاوية ، قال عمرو: حدثنا محمد بن خازم ابو معاوية ، حدثنا عاصم الاحول ، عن حفصة بنت سيرين ، عن ام عطية ، قالت: لما ماتت زينب بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اغسلنها وترا ثلاثا او خمسا، واجعلن في الخامسة كافورا او شيئا من كافور، فإذا غسلتنها فاعلمنني "، قالت: فاعلمناه، فاعطانا حقوه، وقال: اشعرنها إياه "،

‏‏‏‏ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا وفات فرما گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ان کو طاق بار نہلاؤ تین یا پانچ بار اور پانچویں بار کے پانی میں کافور یا فرمایا تھوڑا سا کافور ڈال دو۔ پھر جب نہلا چکو تو مجھے خبر دو۔ پھر جب ہم نے خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہبند پھینک دیا اور فرمایا: اس کا کپڑا کفن کے اندر کر دو۔ (یعنی بدن سے لگا رہے تاکہ برکت کو موجب ہو)۔

صحيح مسلم # 2173
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp