كِتَاب الْجَنَائِزِ جنازے کے احکام و مسائل

وحدثنا يحيى بن يحيى ، اخبرنا يزيد بن زريع ، عن ايوب ، عن محمد بن سيرين ، عن ام عطية ، قالت: دخل علينا النبي صلى الله عليه وسلم ونحن نغسل ابنته، فقال: " اغسلنها ثلاثا او خمسا او اكثر من ذلك، إن رايتن ذلك بماء وسدر، واجعلن في الآخرة كافورا او شيئا من كافور، فإذا فرغتن فآذنني "، فلما فرغنا آذناه، فالقى إلينا حقوه، فقال: اشعرنها إياه "،

‏‏‏‏ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم ان کی صاحبزادی کو نہلاتے تھے (یعنی ان کے جنازہ کو) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو نہلاؤ تین بار یا پانچ بار یا اس سے زیادہ اگر تم مناسب جانو پانی سے اور بیری کے پتوں سے اور ڈال دو آخر میں کافور یا فرمایا تھوڑا سا کافور، پھر جب نہلا چکو تو مجھے خبر دو۔ پھر جب نہلا چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند ہمارے طرف پھینک دیا اور فرمایا: اس کو اندر کا کپڑا کر دو ان کے کفن کا۔ (یعنی برکت کے لئے اور اس سے ثابت ہوا کہ مرد کے کپڑے سے عورت کو کفن دے سکتے ہیں)۔

صحيح مسلم # 2168
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp