كِتَاب الْجَنَائِزِ جنازے کے احکام و مسائل

وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وزهير بن حرب ، وإسحاق بن إبراهيم ، جميعا، عن ابي معاوية ، قال زهير: حدثنا محمد بن خازم، حدثنا عاصم ، عن حفصة ، عن ام عطية ، قالت: لما نزلت هذه الآية يبايعنك على ان لا يشركن بالله شيئا سورة الممتحنة آية 12، ولا يعصينك في معروف سورة الممتحنة آية 12، قالت: كان منه النياحة، قالت: فقلت يا رسول الله إلا آل فلان، فإنهم كانوا اسعدوني في الجاهلية، فلا بد لي من ان اسعدهم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إلا آل فلان ".

‏‏‏‏ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب یہ آیت اتری «يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لاَ يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا» یعنی جب مؤمن عورتیں تیرے پاس آئیں بیعت کرنے کو تو ان سے بیعت لے کہ نہ شریک کریں۔ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو اور وہ کسی دستور کی بات میں تیری نافرمانی نہ کریں تو ان باتوں میں جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت کی نوحہ بھی تھا۔ پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کہیں نوحہ نہ کروں گی مگر فلاں شخص کے قبیلہ میں اس لئے کہ وہ میرے نوحہ میں جاہلیت کے زمانہ میں شریک ہوتی تھی تو مجھے بھی ان کے ساتھ شریک ہونا ضروری ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ خیر فلاں قبیلہ میں سہی۔

صحيح مسلم # 2165
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp