كِتَاب الْجَنَائِزِ جنازے کے احکام و مسائل

وحدثنا ابن المثنى ، وابن ابي عمر ، قال ابن المثنى: حدثنا عبد الوهاب ، قال: سمعت يحيى بن سعيد ، يقول: اخبرتني عمرة ، انها سمعت عائشة ، تقول: لما جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم قتل ابن حارثة، وجعفر بن ابي طالب، وعبد الله بن رواحة، جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم يعرف فيه الحزن، قالت: وانا انظر من صائر الباب شق الباب، فاتاه رجل، فقال: يا رسول الله، إن نساء جعفر وذكر بكاءهن، فامره ان يذهب فينهاهن، فذهب فاتاه فذكر انهن لم يطعنه، فامره الثانية ان يذهب فينهاهن، فذهب، ثم اتاه، فقال: والله لقد غلبننا يا رسول الله، قالت: فزعمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " اذهب فاحث في افواههن من التراب "، قالت عائشة: " فقلت ارغم الله انفك، والله ما تفعل ما امرك رسول الله صلى الله عليه وسلم، وما تركت رسول الله صلى الله عليه وسلم من العناء ".

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا زید بن حارثہ اور جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کے قتل کی خبر آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین بیٹھ گئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں ان کو دروازہ کی دراڑ سے دیکھتی تھی کہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جعفر کی عورتیں رو رہی ہیں (یعنی چیخ چلا کر شرع میں منع ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ ان کو روکو۔ پھر وہ گیا اور پھر آیا اور عرض کیا کہ انہوں نے نہیں مانا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دوبارہ اس کو فرمایا: کہ جاؤ ان کو روک دو۔ پھر وہ گیا اور آیا اور عرض کیا کہ اللہ کی قسم! ہم کو انہوں نے ہرا دیا اے اللہ کے رسول! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں خیال کرتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا ان کے منہ میں خاک ڈال دے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: تیری ناک میں اللہ خاک بھرے کہ نہ تو وہ کام کرتا ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجھے حکم فرماتے ہیں اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑتا ہے کہ تکلیف سے چھوٹ کر بیٹھیں۔

صحيح مسلم # 2161
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp