كِتَاب الْجَنَائِزِ جنازے کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا عفان ، حدثنا ابان بن يزيد . ح وحدثني إسحاق بن منصور ، واللفظ له، اخبرنا حبان بن هلال ، حدثنا ابان ، حدثنا يحيى ، ان زيدا حدثه، ان ابا سلام حدثه، ان ابا مالك الاشعري حدثه، ان النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " اربع في امتي من امر الجاهلية، لا يتركونهن: الفخر في الاحساب، والطعن في الانساب، والاستسقاء بالنجوم، والنياحة "، وقال: " النائحة إذا لم تتب قبل موتها، تقام يوم القيامة وعليها سربال من قطران، ودرع من جرب ".

‏‏‏‏ ابومالک اشعری نے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں جاہلیت (یعنی زمانہ کفر) کی چار چیزیں ہیں کہ لوگ ان کی نہ چھوڑیں گے، ایک اپنے حسب پر فخر کرنا، دوسرے کے نسب پر طعن کرنا، تیسرے تاروں سے پانی کی امید رکھنا، اور چوتھے بین کر کے رونا۔ اور فرمایا: بین کرنے والی اگر توبہ نہ کرے اپنے مرنے سے پہلے تو جب قیامت ہو گی تو اس پر گندھک کا پیرہن اور کھجلی کی اوڑھنی ہو گی۔

صحيح مسلم # 2160
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp