حدثنا ابو كريب ، حدثنا ابو اسامة ، عن هشام ، عن ابيه ، قال: ذكر عند عائشة ، ان ابن عمر يرفع إلى النبي صلى الله عليه وسلم: " إن الميت يعذب في قبره ببكاء اهله عليه "، فقالت: وهل إنما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إنه ليعذب بخطيئته او بذنبه، وإن اهله ليبكون عليه الآن ". وذاك مثل قوله إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قام على القليب يوم بدر، وفيه قتلى بدر من المشركين، فقال لهم ما قال: " إنهم ليسمعون ما اقول "، وقد وهل، إنما قال: " إنهم ليعلمون ان ما كنت اقول لهم حق "، ثم قرات إنك لا تسمع الموتى سورة النمل آية 80، وما انت بمسمع من في القبور سورة فاطر آية 22، يقول: حين تبوءوا مقاعدهم من النار.
ہشام نے وہی مضمون روایت کیا جو اوپر گزر چکا ہے۔ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ وہ (یعنی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) بھول گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہی فرمایا تھا: ”اس پر عذاب ہوتا ہے اس کے گناہ اور خطا کے سبب سے اور لوگ اس پر رو رہے ہیں اس وقت۔“ اور یہ قول بھول سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی ایسی ہے کہ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے کنوئیں پر جس میں بدر کے مشرکوں کے مقتول تھے کھڑے ہو کر فرمایا اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یوں روایت کی کہ وہ لوگ سنتے ہیں جو میں کہتا ہوں اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بھول گئے حقیقت یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب وہ جانتے ہیں کہ وہ جو میں ان سے کہا کرتا تھا (یعنی ان کی زندگی میں) وہ سچ نکلا۔“ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت پڑھی «إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتَى» ”تو نہیں سنا سکتا ہے ان کو جو قبروں میں ہیں“ ان کے اس حال کی خبر دیتا ہے جب وہ جگہ پکڑ چکے دوزخ کی بیٹھکوں میں۔