وحدثنا خلف بن هشام ، وابو الربيع الزهراني ، جميعا، عن حماد ، قال خلف، حدثنا حماد بن زيد ، عن هشام بن عروة ، عن ابيه ، قال: ذكر عند عائشة قول ابن عمر: الميت يعذب ببكاء اهله عليه، فقالت: رحم الله ابا عبد الرحمن سمع شيئا فلم يحفظه، إنما مرت على رسول الله صلى الله عليه وسلم جنازة يهودي، وهم يبكون عليه، فقال: " انتم تبكون وإنه ليعذب ".
ہشام اپنے باپ عروہ سے روای ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آگے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس کہنے کا ذکر ہوا کہ مردوں پر اس کے لوگوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ ابو عبدالرحمٰن پر رحمت کرے کہ انہوں نے سنا کچھ اور اس کو یاد نہ رکھا۔ حقیقت اس کی یوں ہے کہ ایک یہودی کا جنازہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آیا اور لوگ اس پر روتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ تم روتے ہو اس پر عذاب ہوتا ہے۔“