كِتَاب الْجَنَائِزِ جنازے کے احکام و مسائل

حدثنا داود بن رشيد ، حدثنا إسماعيل ابن علية ، حدثنا ايوب ، عن عبد الله بن ابي مليكة ، قال: كنت جالسا إلى جنب ابن عمر، ونحن ننتظر جنازة ام ابان بنت عثمان، وعنده عمرو بن عثمان فجاء ابن عباس يقوده قائد، فاراه اخبره بمكان ابن عمر، فجاء حتى جلس إلى جنبي فكنت بينهما، فإذا صوت من الدار، فقال ابن عمر : كانه يعرض على عمر وان يقوم فينهاهم، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " إن الميت ليعذب ببكاء اهله "، قال: فارسلها عبد الله مرسلة، فقال ابن عباس : كنا مع امير المؤمنين عمر بن الخطاب، حتى إذا كنا بالبيداء، إذا هو برجل نازل في ظل شجرة، فقال لي: اذهب فاعلم لي من ذاك الرجل، فذهبت فإذا هو صهيب، فرجعت إليه فقلت: إنك امرتني ان اعلم لك من ذاك وإنه صهيب، قال: مره فليلحق بنا، فقلت: إن معه اهله، قال: وإن كان معه اهله، وربما قال ايوب: مره فليلحق بنا، فلما قدمنا لم يلبث امير المؤمنين ان اصيب، فجاء صهيب، يقول: وا اخاه وا صاحباه، فقال عمر : الم تعلم، او لم تسمع، قال ايوب او قال: او لم تعلم، او لم تسمع، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " إن الميت ليعذب ببعض بكاء اهله "، قال: فاما عبد الله فارسلها مرسلة، واما عمر، فقال: ببعض، فقمت فدخلت على عائشة فحدثتها بما قال ابن عمر، فقالت: " لا والله ما قاله رسول الله صلى الله عليه وسلم قط إن الميت يعذب ببكاء احد "، ولكنه قال: " إن الكافر يزيده الله ببكاء اهله عذابا، وإن الله لهو اضحك وابكى، ولا تزر وازرة وزر اخرى "، قال ايوب : قال ابن ابي مليكة : حدثني القاسم بن محمد ، قال: لما بلغ عائشة قول عمر، وابن عمر، قالت: " إنكم لتحدثوني عن غير كاذبين ولا مكذبين ولكن السمع يخطئ ".

‏‏‏‏ عبداللہ بن ابی ملیکہ نے کہا کہ میں بیٹھا تھا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بازو پر اور ہم سب ام ابان سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے جنازے کے منتظر تھے اور ان کے (یعنی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے) پاس عمرو بن عثمان تھے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی آئے کہ ان کو ایک شخص لاتا تھا جو ان کو لے آیا کرتا تھا (یعنی وہ نابینا تھے) پھر گمان کرتا ہوں میں کہ خبر دی ان کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی جگہ سے پھر وہ آئے اور میرے بازو پر بیٹھ گئے اور میں ان دونوں (یعنی سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم کے بیچ میں تھا کہ اتنے میں گھر میں ایک رونے کی آواز آئی اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا گویا اشارہ کیا سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کی طرف کہ وہ کھڑے ہو کر ان رونے والوں کو منع کر دیں (یعنی ان کو سنانے کے لئے کہا کہ سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ فرماتے تھے: میت پر عذاب ہوتا اس پر لوگوں کے رونے سے۔ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو عام فرمایا (یعنی اس کی قید نہ لگائی کہ یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کے لیے فرمائی تھی) اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے یہاں تک کہ جب بیداء میں پہنچے (بیداء ایک مقام کا نام ہے) یکایک ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ ایک درخت کے سایہ میں اترا ہوا ہے تو مجھ سے امیرالمؤمنین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جاؤ اور معلوم کرو کہ یہ شخص کون ہے؟ پھر میں گیا اور میں نے دیکھا کہ وہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر میں لوٹا اور میں نے کہا، مجھے آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تھا کہ دیکھو یہ کون ہے تو میں دیکھا کہ وہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ ہیں۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ جاؤ اور ان کو حکم دو کہ ہم سے ملیں۔ میں نے کہا: ان کے ساتھ ان کی بیوی ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا مضائقہ ہے اگرچہ ہو ان کے ساتھ ان کی بیوی، پھر جب مدینہ میں آئے تو کچھ دیر ہی نہ لگی کہ امیرالمؤمنین زخمی ہو گئے اور صہیب رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے کہ ہائے میرے بھائی اور ہائے میرے صاحب! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نہیں جانتے ہو یا تم نے سنا نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔ کہ مردہ اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب پاتا ہے۔ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تھا کہ بعض لوگوں کے رونے سے عذاب پاتا ہے۔ پھر میں کھڑا ہوا (یہ قول عبداللہ بن ابی ملیکہ کا ہے) اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے یہ سب بیان کیا جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا تب انہوں (ام المؤمنین رضی اللہ عنہا) نے فرمایا: نہیں، یہ بات نہیں ہے اللہ کی قسم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کبھی کہ مردہ کو اس کے لوگوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے: کافر پر اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب اور زیادہ ہو جاتا ہے اور رلاتا بھی وہی ہے، اور ہنساتا بھی وہی ہے، (یعنی اللہ) اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھاتا۔ ایوب نے کہا کہ ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ مجھ سے بیان کیا قاسم بن محمد نے کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو خبر پہنچی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قول کی تو انہوں نے فرمایا: تم ایسے لوگوں کی بات کرتے ہو جو جھوٹ نہیں بولتے اور نہ وہ جھٹلائے جا سکتے ہیں مگر سننے میں کبھی غلطی ہو جاتی ہے (یعنی مراد یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات یہود یا کسی اور کافر کے لئے فرمائی تھی۔ سننے والوں نے اس کو ہر شخص کے لئے عام سمجھ لیا)۔

صحيح مسلم # 2149
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp