كِتَاب الْجَنَائِزِ جنازے کے احکام و مسائل

وحدثني علي بن حجر السعدي ، حدثنا علي بن مسهر ، عن الاعمش ، عن ابي صالح ، عن ابن عمر ، قال: لما طعن عمر اغمي عليه، فصيح عليه، فلما افاق قال: اما علمتم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " إن الميت ليعذب ببكاء الحي ".

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے بے ہوش ہو گئے اور لوگ ان پر چیخ کر رونے لگے۔ پھر جب ان کو ہوش ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ تم کو معلوم نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: زندہ کے رونے سے میت پر عذاب ہوتا ہے۔

صحيح مسلم # 2145
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp