وحدثني احمد بن سعيد الدارمي ، حدثنا حبان ، حدثنا وهيب ، حدثنا منصور ، عن امه ، عن اسماء بنت ابي بكر ، قالت: " كسفت الشمس على عهد النبي صلى الله عليه وسلم، ففزع فاخطا بدرع حتى ادرك بردائه بعد ذلك، قالت: فقضيت حاجتي، ثم جئت ودخلت المسجد، فرايت رسول الله صلى الله عليه وسلم قائما، فقمت معه فاطال القيام حتى رايتني اريد ان اجلس، ثم التفت إلى المراة الضعيفة، فاقول: هذه اضعف مني فاقوم، فركع فاطال الركوع، ثم رفع راسه فاطال القيام، حتى لو ان رجلا جاء خيل إليه انه لم يركع ".
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے وہی مضمون روایت کیا جو اوپر گزرا۔ اور اس کے بعد کہا کہ میں نے اپنی حاجت پوری کی اور پھر مسجد میں آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نماز کو کھڑے ہیں تو میں بھی ان کے ساتھ کھڑی ہوئی اور بہت لمبا قیام کیا یہاں تک کہ میں اپنے تئیں دیکھتی تھی کہ جی چاہتا تھا کہ بیٹھ جاؤں۔ اور ایک ضعیف عورت کو دیکھا تو میں نے دل میں کہا یہ تو مجھ سے زیادہ ضعیف ہے۔ پھر میں کھڑی رہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور بہت لمبا رکوع کیا پھر اپنا سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا یہاں تک کہ اگر کوئی شخص اور آتا تو جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی رکوع نہیں کیا (یعنی قومہ، قیام کے برابر تھا)۔