كِتَاب الْكُسُوفِ سورج اور چاند گرہن کے احکام

حدثنا يحيى بن حبيب الحارثي ، حدثنا خالد بن الحارث ، حدثنا ابن جريج ، حدثني منصور بن عبد الرحمن ، عن امه صفية بنت شيبة ، عن اسماء بنت ابي بكر ، انها قالت: " فزع النبي صلى الله عليه وسلم يوما، قالت: تعني يوم كسفت الشمس، فاخذ درعا حتى ادرك بردائه، فقام للناس قياما طويلا، لو ان إنسانا اتى لم يشعر ان النبي صلى الله عليه وسلم ركع ما حدث انه ركع من طول القيام ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن گھبرائے مراد یہ تھی کہ جس دن سورج گہن ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھبراہٹ سے کسی عورت کی بڑی چادر اوڑھ لی اور چلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر آپ کو لا کر دی اور نماز میں اتنی دیر کھڑے رہے کہ اگر کوئی شخص آتا تو یہ بھی نہ جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا ہے جیسے رکوع آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہوئے ہیں بہت دیر کھڑے رہنے کے سبب سے۔

صحيح مسلم # 2106
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp