وحدثني يعقوب بن إبراهيم الدورقي ، حدثنا إسماعيل ابن علية ، عن هشام الدستوائي ، قال: حدثنا ابو الزبير ، عن جابر بن عبد الله ، قال: كسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في يوم شديد الحر، فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم باصحابه، فاطال القيام حتى جعلوا يخرون، ثم ركع فاطال، ثم رفع فاطال، ثم ركع فاطال، ثم رفع فاطال، ثم سجد سجدتين، ثم قام فصنع نحوا من ذاك، فكانت اربع ركعات واربع سجدات، ثم قال: " إنه عرض علي كل شيء تولجونه، فعرضت علي الجنة حتى لو تناولت منها قطفا اخذته "، او قال: " تناولت منها قطفا فقصرت يدي عنه، وعرضت علي النار، فرايت فيها امراة من بني إسرائيل تعذب في هرة لها ربطتها، فلم تطعمها ولم تدعها تاكل من خشاش الارض، ورايت ابا ثمامة عمرو بن مالك يجر قصبه في النار، وإنهم كانوا يقولون إن الشمس والقمر لا يخسفان إلا لموت عظيم، وإنهما آيتان من آيات الله يريكموهما، فإذا خسفا فصلوا حتى تنجلي ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں سورج گہن ہوا اور ان دونوں میں بڑی گرمی تھی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ نماز پڑھی۔ اور بہت لمبا قیام کیا یہاں تک کہ لوگ گرنے لگے، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا قیام کیا، پھر دو سجدے کئیے، پھر کھڑے ہوئے اور اسی طرح کیا۔ غرض چار رکوع ہوئے اور چار سجدے (یعنی دو رکعت میں) پھر فرمایا: ”جتنی چیزیں ایسی ہیں کہ تم ان میں جاؤ گے۔ (یعنی دوزخ و جنت، قبر و حشر وغیرہ) وہ سب میرے آگے آئیں۔ اور جنت تو ایسی آگے آئی کہ اگر میں ایک گچھا اس میں سے لینا چاہتا تو ضرور ہی لے لیتا یا یہ فرمایا کہ میں نے اس میں سے ایک گچھا لینا چاہا تو میرا ہاتھ نہ پہنچا اور دوزخ میرے آگے آئی اور ایک بنی اسرائیل کی عورت کو دیکھا کہ ایک بلی کی وجہ سے اس پر عذاب ہو رہا ہے کہ اس نے بلی کو باندھ دیا تھا اور اسے نہ تو کھانے کو دیا اور نہ اسے کھولا تاکہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ اور دوزخ میں ابوثمامہ عمرو بن مالک کو دیکھا کہ اپنی آنتیں دوزخ میں کھینچتا ہے“ اور عرب کا یہ خیال تھا کہ سورج اور چاند میں گہن نہیں لگتا مگر کسی بڑے شخص کے مرنے سے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کہ وہ تم کو دکھاتا ہے پھر جب ان میں گہن لگے تو نماز پڑھو جب تک وہ کھل نہ جائے۔“