وحدثنا محمد بن مهران الرازي ، حدثنا الوليد بن مسلم ، قال: قال الاوزاعي ابو عمرو ، وغيره سمعت ابن شهاب الزهري يخبر، عن عروة ، عن عائشة " ان الشمس خسفت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فبعث مناديا الصلاة جامعة فاجتمعوا، وتقدم فكبر وصلى اربع ركعات في ركعتين واربع سجدات ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں سورج گہن ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ایک پکارنے والے کو بھیجا کہ یوں پکار دے کہ ”سب لوگ مل کر نماز ادا کرو۔“ غرض لوگ جمع ہو گئے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر تکبیر کہی (یعنی تکبیر اولیٰ) اور چار رکوع کئیے دو رکعتوں میں اور چار سجدے۔