كِتَاب صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ بارش طلب کرنے کی نماز

وحدثني هارون بن معروف ، حدثنا ابن وهب ، عن عمرو بن الحارث . ح وحدثني ابو الطاهر ، اخبرنا عبد الله بن وهب ، اخبرنا عمرو بن الحارث ، ان ابا النضر حدثه، عن سليمان بن يسار ، عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، انها قالت: ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم مستجمعا ضاحكا حتى ارى منه لهواته، إنما كان يتبسم، قالت: وكان إذا راى غيما او ريحا، عرف ذلك في وجهه، فقالت: يا رسول الله ارى الناس إذا راوا الغيم فرحوا رجاء ان يكون فيه المطر، واراك إذا رايته عرفت في وجهك الكراهية، قالت: فقال: " يا عائشة ما يؤمنني ان يكون فيه عذاب، قد عذب قوم بالريح، وقد راى قوم العذاب فقالوا: هذا عارض ممطرنا ".

‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کبھی نہ دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قہقہہ مار کر ہنستے ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلق کا کوا نظر آنے لگتا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت تھی کہ مسکراتے تھے اور جب بدلی کو دیکھتے یا آندھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ میں ڈر معلوم ہونے لگتا، سو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں اور لوگوں کو دیکھتی ہوں کہ وہ جب بدلی کو دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں، اس امید سے کے اس میں پانی ہو گا۔ اور جب آپ بدلی کو دیکھتے تو آپ کے چہرہ پر ناگواری ظاہر ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! مجھے خوف رہتا ہے اس کا کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو اس لئے کہ ایک قوم ہوا ہی کے عذاب سے ہلاک ہو چکی ہے اور جب ایک قوم نے عذاب کو دیکھا تو یوں کہا کہ یہ بدلی ہے ہم پر برسنے والی۔

صحيح مسلم # 2086
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp