وحدثني عبد الاعلى بن حماد ، ومحمد بن ابي بكر المقدمي ، قالا: حدثنا معتمر ، حدثنا عبيد الله ، عن ثابت البناني ، عن انس بن مالك ، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يخطب يوم الجمعة، فقام إليه الناس فصاحوا، وقالوا: يا نبي الله قحط المطر واحمر الشجر وهلكت البهائم، وساق الحديث، وفيه من رواية عبد الاعلى: " فتقشعت، عن المدينة فجعلت تمطر حواليها، وما تمطر بالمدينة قطرة، فنظرت إلى المدينة وإنها لفي مثل الإكليل ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھتے تھے جمعہ کا اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہو گئے اور پکار کر کہا: اے اللہ کے نبی! مینہ نہیں برستا اور درختوں کے پتے سوکھ گئے اور جانوری مر گئے۔ اور بیان کی حدیث آخر تک۔ اور عبدالاعلیٰ کی روایت میں یہ ہے آخر مینہ مدینہ پر سے کھل گیا اور اس کے ارد گرد برستا رہا اور مدینہ میں ایک بوند نہ گرتی تھی۔ اور میں نے دیکھا کہ ٹوپی کی طرح بیچ میں سے کھلا ہوا تھا۔